حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے طویل مذاکرات کے بعد کہا ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کسی قسم کے انتشار کی کوشش کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ’مذاکرات میں ہم نے اپنے مطالبات سامنے رکھے۔ لانگ مارچ اور انسداد دہشت گردی سے متعلق ہماری بات چیت ہوئی ہے تاہم کئی چیزوں پر اتفاق ہوجاتا ہے اور کئی پر نہیں ہوتا۔‘
’خان صاحب تک رسائی، ان کے ساتھ ملاقات، ان کا علاج اور ان کے ساتھ جیل میں سلوک ہمارا مسئلہ تھا۔ دہشت گردی سے متعلق معاملات پر بات ہوئی۔ یہ بھی کوسش کی کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن اور جمہوری انداز میں ہو۔ ہم لانگ مارچ کو اسلام آباد تک لانا چاہتے تھے تاکہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے۔‘
انہوں نے بتایا ’ہم نے ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق خبروں پر بھی تفصیلی بات کی۔ اس پر تحفطات تھے۔ اگر آئین اور قانون کے ماورا کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو یہ عوام کی منشا اور صوبے کے مینڈیٹ کی توہین ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’طویل نشست کے بعد اب بھی چند چیزوں پر ڈیڈ لاک ہے۔ کچھ الفاظ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں۔ چاہے وہ ہماری یا حکومت کی جانب سے ہوں۔‘
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا’ ابھی تک تو ڈیڈ لاک ہے۔ بات چیت کے نئے دور پر بھی اتفاق نہیں ہوا تاہم کچھ چیزوں پر بات چیت ہوسکتی ہے۔ واٹس ایپ یا فون پر تجاویز کا تبادلہ کریں گے۔ اگربات آگے بڑھی تو ایک اور دور کل یا پرسوں ہونے کی توقع ہے۔‘
ایک سوال پر انہوں نے کہا ’لانگ مارچ منسوخ یا موخر نہیں کیا گیا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے بھی یہ بات کی ہے۔‘
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے بتایا ’بنیادی بات امن وامان اور دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے حالات ہیں۔‘
’وفاق کا موقف ہے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات ہمیں قبول نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment